نیوٹریشن پروگرام بلوچستان کے زیر اہتمام ماں کے دودھ کی افادیت، بچوں کی اضافی غذا اور نیوٹریشن پروگرام کے منتخب کردہ اضلاع میں "او ٹی پی اور بی ایچ یو" مراکز صحت میں غذائی کمی کے شکار بچوں کے علاج کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پیغامات۔۔۔۔۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے ابتدائی طور پر صوبہ کے سات اضلاع جن میں، سبی، کوھلو، خاران، نوشکی، پنجگور، قلعہ سیف اللہ اور ژوب شامل ہیں کے تمام مراکز صحت میں غذائی کمی کے شکار ماں اور بچوں کے علاج کا آغاز کر دیا ہے۔ لہذا چھ ماہ سے لیکر پانچ سال تک کی عمرکے ایسے بچے جو غذائی کمی کا شکار ہوں ان کوطبی معائنہ اور علاج کے لیئے اپنے قریبی مرکز صحت لیکر آئیں۔۔۔۔۔  پیدائش کے فورا بعد یا پہلے گھنٹے کے اند ر اندر بچے کو ماں کا پہلا دود ھ پلانا شروع کر دیں ۔ ماں کا پہلا دودھ پیلا گاڑھا ہوتا ہے جو کہ بچے کو مختلف پیماریوں سے بچاو میں مدد دیتا ہے اور بچے کی قوت مدافیعت کو بڑھاتا ہے۔۔۔۔۔  پیدائش سے چھ ماہ تک کے بچوں کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلایا جائے اس کے علاوہ کوئی مائع یا ٹھوس غذا بلکل نہ دی جائے حتی کہ پانی بھی نہیں۔ البتہ پولیو کے قطرے اور دیگر نمکیات اور حفاظتی ٹیکہ جات دیے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔  چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو اوپری دودھ (ڈبے کا دوودھ، بکری ، گائے، بھنس کا دودھ) دینا، بوتل کے ذریعے خوراک دینا بچے کے لیئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ یہ بچے کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے جیسا کہ اسہال یا دست، جسمانی و ذہنی کمزوری وغیرہ۔۔۔۔۔  چھ ماہ کی عمر کے بعد بچے کو مختلف غذائیںدی جائیں جیسا کہ سبزیاں، پھل، گوشت ( نرم کیا ہوا) دالیں، مکھن، پھلیاں، مونگ پھلی وغیرہ۔ بچے کو اضافی غذا شروع کرنے کے لیئے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے لہذا بچے کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ اضافی غذا کھا سکے۔ بچے کو بڑوں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پہ کھانا کھانے کی عادت ڈالیں۔ بچے کو پہلے ماں کا دودھ پلائیں اور اضافی غذا بعد میں کھلائیں۔اضافی غذا کے ساتھ ساتھ ماں بچے کو دو سال کی عمر تک اپنا دودھ پلانا جاری رکھیں۔۔۔۔۔  چھ ماہ کی عمر کے بعدبچوں کو اضافی غذا دیں۔ بچوںکوگھر میں استعمال کی جانے والی خوراک چاول، گندم،مکئی ، آلو، دالیں، دہی ، دودھ، سبزیاںاور گھی اور مکھن دیں۔ بچوں کو دی جانے والی غذا کی مقدار میں بلحاظ عمر اضافہ کرتے جائیں۔ چھ ماہ سے لیکر آٹھ ماہ کے بچوں کو گاڑھے دلیئے ، مسلے ہوئے آلو ، کیلا اور دیگر نرم کی گئی گھریلوں غذائیں کھلانا شروع کریں ۔ دو سے تین چمچ سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ مقدار بڑھاتے جائیں۔ ساتھ ساتھ ماں بچے کو اپنا دودھ پلانا دو سال تک جاری رکھیں۔۔۔۔۔  دس ماہ سے گیارہ ماہ تک کی عمر کے بچوں کو بہت اچھی طرح باریک کٹی ہوئی نرم کی ہوئی غذائیں ، اور وہ غذائیں جو بچہ پکڑ سکے۔ تین سے چار کھانے کے سا تھ ساتھ ماں بچے کو اپنا دودھ پلانا دو سال تک جاری رکھیں۔۔۔۔۔  12 سے 24 ماہ تک کے بچوں کو گھریلوں غذائیں باریک کٹی ہوئی اور نرم کر کے کھائیں ۔ دن میں تین سے چار مرتبہ بچے کو ٹھوس غذا دیں اور کھانے کے سا تھ ساتھ ماں بچے کو اپنا دودھ پلانا دو سال تک جاری رکھیں۔ صابن کے استعمال اور مناسب طریقے سے ہاتھ دھونے سے مختلف بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ جب آپ بیت الخلا استعمال کریں، بچے کا پاخانہ دھلوائیں، کھانا بنائیںیا جب بچے کو کھانا کھلائیں تب ہمیشہ ہاتھ صابن دھوئیں۔۔۔۔۔  صابن سے ہاتھ دھونے کا طریقہ ٭ اپنے ہاتھ پانی سے ہاتھ گیلے کریں، صابن لگا کردونوں ہاتھوں کو مل کر جھاگ بنائیںاور انگلیوں کے درمیان والی جگہیں صاف کریں۔دونوں انگوٹھوں کو باری باری ہتھیلی سے پکڑ کر اچھی طرح صاف کریں۔ انگلیوں کو اکھٹا کر کے دائرے کی شکل میں ہتھیلی پرصاف کریں۔ اس کے بعد دونوں ہاتھ صاف پانی سے ہاتھ دھو لیں۔ 

تازہ ترین واقعات

Dec 24, 2018


کوئٹہ 24 دسمبر 2018: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبہ بھر میں لگائے جانے والے نیوٹریشن ایمرجنسی کے تناظر میں وفاقی حکومت نہایت سنجیدہ ہے۔ کیونکہ غذائی قلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیاں مجموعی نمود کے لیے انتہائی منفی تصور کی جاتی ہیں۔


Dec 20, 2018

خاران 20 دسمبر 2018۔ بلوچستان نیوٹریش پروگرام برائے ماں اور بچے خاران کے زیراہتمام محکمہ صحت ڈی ایچ او خاران آفس میں آیوڈین کی کمی سے پیدا ہونے والے بیماریوں اور دیگر غذائی فوائد کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں ڈی ایچ او خاران ڈاکٹر بشیر بلوچ اور ڈسٹرکٹ نیوٹریشن آفیسر احترام کبدانی نے شرکاء کو آیوڈین ملانمک کےاستعمال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔


Dec 19, 2018

نوشکی ۔19دسمبر 2018: 
ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق ساسولی کی سربراہی میں نیوٹریشن سیل بلو چستان( بی این پی ایم سی )کے زیراہتمام محکمہ صحت ڈی ایچ او نوشکی آفس میں آیوڈین ملانمک اور آیو ڈین کی کمی سے پیدا ہونے والے بیماریوں اور دیگر غذائی فوائد کے عنوان سے سیمنار منعقد ہوا۔


Nov 25, 2018

کوئٹہ 25 نومبر 2018: صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے (بی این پی ایم سی) صوبے میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے موثر انداز میں اقدامات اُٹھارہی ہے، جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے بلوچستان بھر میں غذائی صورتحال کی شدید اور سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئےنیوٹریشن ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ۔


Jul 31, 2018


کوئٹہ 31جولائی : ۔صوبائی وزیر صحت فیض کاکڑ نے کہاکہ ہمیں علاج پر توجہ دینے کے بجائے اس کی روک تھام کیلئے عصر حاضر سے ہم آہنگ پالیسی و اس کو من و عن عملدرآمدکروانا ہوگا کیونکہ ادارے قائم کرنے اورطبی سہولیات فراہم کرنے سے صرف مریضوں کو علاج و معالجے کی سہولیات مہیا کی جاسکتی ہیں


Jul 13, 2018


کوئٹہ 13جولائی ۔ نگران صوبائی وزیر صحت فیض کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ماں اور بچے کی غذائیت اور ان سے منسلک طبی پیچیدگیوں کے بحران کا سامنا ہے اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ 


Jun 12, 2018

کوئٹہ 12جون ۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ غذا اور غذائیت سے متعلق اموات اور اس حوالے سے طبی پیچیدگیاں زیادہ ہونا باعث تشویش اور معاشرے کے لئے انتہائی مہلک ہے اور وہ سینٹ کے فلور پر اس سنگین مسئلہ کے حل کے لئے اظہار خیال کریں گے ۔ 


Apr 28, 2018

کوئٹہ 27اپریل ۔ صوبائی سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اسفند یار خان نے کہا ہے کہ ترقی کے عمل میں شامل عالمی اداروں کی بلوچستان کی ترقی میں دلچسپی قابل ستائش ہے اورموجودہ صوبائی حکومت کی کاوشوں سے ان اداروں سے رابطے مزید مستحکم ہورہے ہیں بلوچستان میں ماں اور بچے غذائیت کے حوالے اٹھائے جانے والے اقدامات میں عالمی بینک اور آسٹریلین ایڈ کا کردار قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ بات انہوں نے عالمی بینک کے مشن سے ملاقات کے دوران کیا۔


Apr 2, 2018

 ضلعی وائس چیئرمین ضلع کوہلو وڈیرہ ربنواز مری نےکہا کہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام جو کہ ضلعی سطح پر ماں و بچے کی مجموعی صحت اور ان میں غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کےلئے اقدامات اٹھارہی ہے وہ قابل ستائش اور ضلعی سطح پر حوصلہ افزائی کا باعث ہیں جبکہ اس حوالے سے ضلعی نیوٹریشن آفیسر سمیع زرکون نے جس انداز میں پروگرام کو ضلع کے دور دراز علاقوں میں وسعت دی ہے اور جس انداز میں اس کی نگرانی کررہے ہیں وہ قابل ستائش اور قابل تقلید ہے اور ضلعی سطح پر اس پروگرام کی ہر طرح سے معاونت اور رہنمائی کی جائے گی ۔


Jan 31, 2018

کوئٹہ 31جنوری2018:۔صوبائی وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نواز اہے وسائل کا صحیح استعمال اور انکی عوام تک پہنچ کو یقینی بنانے کیلئے موجودہ صوبائی حکومت عملی اقدامات اٹھا رہی ہے کسی بھی ملک اور قوم کا اصل اثاثہ اورسرمایہ اس کے نوجوان ہنرمند قوت ہوتی ہے ہماری تمام تر توجہ نوجوانون میں شعوری تربیت کو ہرطرح سے فروغ دینا شامل ہے


Jan 23, 2018

کوئٹہ 23 جنوری:۔سیکریٹری صحت جاوید انور شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام صوبے میں غذائیت کی ترقی اور ترویج کے حوالے سے بہترین انداز میں خدمات سرانجام دے رہا ہے جبکہ اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں جن میں قابل ذکر طور پر یونیسف، عالمی ادارہ صحت، عالمی ادارہ خوراک، عالمی بینک، آسٹریلین ایڈ ودیگر کی مالی وتکنیکی معاونت قابل ستائش ہے اور حکومت بلوچستان ان ا داروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ 


Dec 30, 2017

نوشکی)بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر علی ناصر بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری ، صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ کی خصوصی دلچسپی اور سیکرٹری صحت جاوید انور شاہوانی کی ہدایات پر بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے بلوچستان میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے موثر انداز میں اقدامات اُٹھارہی ہے، جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں


Dec 27, 2017

بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر علی ناصر بگٹی کو صوبائی نیوٹریشن پروگرام میں اعلیٰ خدمات سر انجام دینے اور اس کی بہترین ترویج پر سول سوسائٹی پاکستان کی جانب سے قائداعظم گولڈ میڈل ایوارڈ 2017ء سے نوازا گیاہے


Dec 8, 2017

کوئٹہ 08دسمبر۲۰۱۷ : ۔ سیکریٹری صحت جاوید انور شاہوانی نے کہا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بلوچستان نیوٹریشن پروگرام بہتر انداز میں خدمات سرانجام دے رہا ہے تاہم اس پروگرام کو مزید بہتر اور وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل نومولود بچوں کی شرح اموات زیادہ تھی۔ اس پروگرام سے لوگوں میں ماں اور بچے کی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا ہوتی ہے۔


بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں اور بچے، صوبائی شعبہ غذائیت محکمہ صحت حکومت بلوچستان

صوبائی شعبہ غذائیت محکمہ صحت حکومت بلوچستان”بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں اور بچے“ کے نام سے صوبے میں غذائیت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے”ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ“ کی قیادت میں عالمی بینک کے تعاون سے شروع کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بلوچستان کے سات اضلاع یعنی خاران، پنجگور، نوشکی، کوہلو، سبی، ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں کمیونٹی کی سطح پر صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پیغامات

نصیب اللہ مری

وزیر صحت

حافظ عبدالماجد

سیکرٹری صحت

 

خصوصی سکریٹری ہیلتھ

ڈاکٹرشاکربلوچ

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ

ڈاکٹر امین مندوخیل

صوبائی کوآرڈینیٹر

پروگرام کے علاقے



بلوچستان میں ضلع

پنجگور
نوشکی
خاران
سبی
کوہلو
قلعہ سیف اللہ
ژوب